Sunday, 4 December 2016

اس عمر میں پھر عشق کا آزار نہ ہو جائے

اس عمر میں پھر عشق کا آزار نہ ہو جائے
اک چھوٹی سی لڑکی سے کہیں پیار نہ ہو جائے
شرماتے ہوئے پیار میں ہر انگ بسائے
بالوں کو بکھیرے کبھی بالوں کو بنائے
بچپن میں جوانی کی اداوں کو چھپائے
وہ دوڑتی ہنستی ہوئی آ جاتی ہے ہر روز
پر روز کئی بار کسی ایک بہانے
خاور کو بلانے کبھی سلمٰی کو کھلانے
یا یونہی محلے کی کوئی بات بتانے
یا دیکھنے باجی کے کشیدے کی کتابیں
ہر بار مگر اک نئے انداز سے آنا
آنکھوں کو جھکائے ہوئے نظروں کو اٹھانا
ڈھلکے ہوئے آنچل کے کنارے کو نچانا
یا چومنا خاور کو مگر دیکھنا مجھ کو
اس غنچے میں شوخی بھی ہے معصوم ادا بھی
بچپن بھی لڑکپن بھی جوانی کا نشہ بھی
باتوں میں شرارت بھی ہے آنکھوں میں حیا بھی
یہ ساری شرابیں ہیں ملی ایک سبو میں
جیسے مجھے ماضی سے کوئی چاند بلائے
یا خواب میں گھٹتے ہوئے بڑھتے ہوئے سائے
یا جیسے کوئی شعر سمجھ میں جو نہ آئے
کچھ روز سے کچھ ایسے خیالوں میں گھرا ہوں
ظلمت میں خیالِ شبِ مہتاب کی صورت
ماضی کے کسی بھولے ہوئے باب کی صورت
ہے زندگی ٹھہرے ہوئے تالاب کی صورت
حیراں ہوں یہاں کیسے کوئی لہر اٹھے گی
کھانے کی پہننے کی نہیں کوئی کمی بھی
کچھ تھوڑی سی عزت بھی ہے فرصت بھی ہنسی بھی
بیوی کی محبت بھی ہے بچوں کی خوشی بھی
ان میں مگر آنکھوں کو وہ مرکز نہیں ملتا
جو زیست کے انگاروں کو بجھنے سے بچالے
بخشے جو غمِ دہر کی ظلمت کو اجالے
جو عقل کی رسی کرے مستی کے حوالے
جو ذرے کو خورشید کی موجوں سے لڑادے
اک برف سا ٹھہراؤ ہے جذبات پہ طاری
لیکن ابھی ندی مِرے سانسوں کی ہے جاری
بن جاؤں گر اس چھوٹی سی لڑکی کا پجاری
شاید وہ تڑپ بخش دے بے روح فضا کو
لیکن مِری آنکھوں کو تو بہنے کی ہے عادت
شاید وہ نہ دیں دل کو ٹھہرنے کی اجازت
کچھ اور بگڑ جائے نہ بگڑی ہوئی حالت
بے چین طبیعت کہیں بیمار نہ ہو جائے
اک چھوٹی سی لڑکی سے کہیں پیار نہ ہو جائے

سعید احمد اختر

No comments:

Post a Comment