پھر نئے خواب بُنیں پھر نئی رنگت چاہیں
زندہ رہنے کے لیے پھر کوئی صورت چاہیں
نئے موسم میں کریں پھر سے کوئی عہدِ وفا
عشق کرنے کے لیے، اور بھی شدت چاہیں
اک وہ ہیں کہ نظر بھر کے نہ دیکھیں ہم کو
بات سننے کے لیے حوصلہ دل میں رکھیں
بات کہنے کے لیے حرفِ صداقت چاہیں
ان کو پانے کے لیے،۔ تیشۂ فرہاد بنیں
قیس بننے کے لیے قیس سی وحشت چاہیں
سانس قرباں کر دیں دیس پہ اک دن ہم بھی
ایسی تقدیر ملے،۔۔ ایسی سعادت چاہیں
ہم ملیں ایسے کہ جوں رنگ ملے پانی میں
ان کی قربت میں حسنؔ ایسی رفاقت چاہیں
حسن رضوی
No comments:
Post a Comment