نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی
کہ آخر مسلموں میں روح پھونکی بادہ نوشی کی
تمہاری پالیسی کا حال کچھ کھلتا نہیں صاحب
ہماری پالیسی تو صاف ہے ایماں فروشی کی
چھپانے کے عوض چھپوا رہے ہیں خود وہ عیب اپنے
شکست رنگ مذہب کا اثر دیکھیں نئے مرشد
مسلمانوں میں کثرت ہو رہی ہے بادہ نوشی کی
رعایا کو مناسب ہے کہ باہم دوستی رکھیں
حماقت حاکموں سے ہے توقع گرم جوشی کی
ہمارے قافیے تو ہو گئے سب ختم اے اکبرؔ
لقب اپنا جو دے دیں مہربانی یہ جوشی کی
اکبر الہ آبادی
No comments:
Post a Comment