میرے بچوں کو سمجھاؤ
میرے بچوں کو سمجھاؤ
کہ تتلی کے پروں کے رنگ جتنے خوشنما اتنے ہی کچے ہیں
انہیں کہہ دو
کہ جگنو کے اجالے سے مقدر کی سیاہی دُھل نہیں سکتی
گِرہ سوچوں میں پڑ جائے تو خوابِ زلفِ برہم دیکھنے سے کھل نہیں سکتی
میرے بچوں کو سمجھاؤ
کوئی خوشبو کسی دکھ کا مداوا، مسئلے کا حل نہیں ہوتی
شکم کی بھوک مِٹ سکتی نہیں رنگیں خیالی سے
انہیں کہہ دو
جھلستی دھوپ کی شدت کسی آنچل کا سایہ مانگنے سے کم نہیں ہوتی
پرائی مسکراہٹ اور ہنسی جتنی بھی دلکش ہو علاجِ غم نہیں ہوتی
میرے بچوں کو سمجھاؤ
خیالِ وصلِ جاناں بھی اگرچہ خوبصورت ہے
مشتاق عاجز
No comments:
Post a Comment