ہمیں پسند سہی، اب یہ رنگ مت پہنو
پرائے تن پہ ہماری امنگ مت پہنو
ہماری روح پہ پڑتی ہیں بدنما شکنیں
لباس پہنو، مگر اتنا تنگ مت پہنو
ہمارے ساتھ زمانہ بھی چل پڑے نہ کہیں
انا چمکنے نہ دے گی تمہیں کسی رُت میں
تم آئینہ ہو مِری جاں! یہ زنگ مت پہنو
فضا پرست ہے وہ، اس سے کیا کہیں عاصمؔ
کہ لال اوڑھ لو، اور سبز رنگ مت پہنو
لیاقت علی عاصم
No comments:
Post a Comment