Saturday, 7 January 2017

دل میں اب آواز کہاں ہے

دل میں اب آواز کہاں ہے
ٹوٹ گیا تو ساز کہاں ہے
آنکھ میں آنسو لب پہ خموشی
دل کی بات اب راز کہاں ہے
سرو و صنوبر سب کو دیکھا
ان کا سا انداز کہاں ہے
دل خوابیدہ، روح فسردہ
وہ جوشِ آغاز کہاں ہے
پردہ بھی جلوہ بن جاتا ہے
آنکھ تجلی ساز کہاں ہے
بت خانے کا عزم ہے ماہرؔ
کعبے کا در باز کہاں ہے

ماہر القادری

No comments:

Post a Comment