بجھ چکی تھی آگ لیکن پتیاں چُنتا رہا
اپنی مرقد سے میں اپنی ہڈیاں چنتا رہا
موجِ دریا ریت کے گھر کو بہا کر لے گئی
میں مگر ساحل پہ بکھری سیپیاں چنتا رہا
ریزہ رہزہ خواب تھے بکھرے ہوئے چاروں طرف
یاد ہے اب تک مجھے بچپن کا وہ اک زلزلہ
ڈھیر سے ملبے کے زندہ تتلیاں چنتا رہا
ہو چکا تھا اس قدر مانوس اس کے ظلم سے
گھر میں رہ کر بھی قفس کی تیلیاں چنتا رہا
خود کو دینے کی اذیت ایسی عادت ہے مجھے
بادلوں کے شہر میں بھی بجلیاں چنتا رہا
جن پہ لکھ کے اس نے بھیجے تھے مجھے صفؔدر خطوط
راکھ کے اک ڈھیر سے وہ پرچیاں چنتا رہا
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment