ہو گیا عشق، کہ آشفتہ سری ہو گئی ہے
دین و دنیا سے بہت بے خبری ہو گئی ہے
ایک تو نیند نہیں آتی شبِ ہجراں میں
اس پہ یہ شاعری بھی درد سری ہو گئی ہے
مل گئی ہے اسے شہرت کے شبستاں کی ہوا
اتنی افسردہ مزاجی نہیں اچھی عاصمؔ
زندگی جیسے چراغِ سحری ہو گئی ہے
لیاقت علی عاصم
No comments:
Post a Comment