Tuesday, 3 January 2017

ہو گیا عشق کہ آشفتہ سری ہو گئی ہے

ہو گیا عشق، کہ آشفتہ سری ہو گئی ہے
دین و دنیا سے بہت بے خبری ہو گئی ہے
ایک تو نیند نہیں آتی شبِ ہجراں میں 
اس پہ یہ شاعری بھی درد سری ہو گئی ہے 
مل گئی ہے اسے شہرت کے شبستاں کی ہوا 
اے جنوں اب وہ کہاں، اب وہ پری ہو گئی ہے 
اتنی افسردہ مزاجی نہیں اچھی عاصمؔ
زندگی جیسے چراغِ سحری ہو گئی ہے

لیاقت علی عاصم

No comments:

Post a Comment