Tuesday, 3 January 2017

اس چہرۂ حسیں کا خیال حسیں رہے

اس چہرۂ حسیں کا خیالِ حسیں رہے
دل میں کھلی سدا یہ کتابِ مبیں رہے
گلشن پسند ہم تھے پہ صحرا نشیں رہے
اندوہگیں سے ہاۓ ہم اندوہگیں رہے
سرمستی و سرور کا اس کے ٹھکانہ کیا
جس دل کی سمت وہ نگہِ سرمگیں رہے
خاکی تھے ہم تو خاک سے نسبت نہیں گئی
روۓ زمیں سے اٹھے تو زیرِ زمیں رہے
اس طرح بھی ملی ہے کبھی منزلِ مراد؟
دیکھی کہیں جو دھوپ تو سایہ نشیں رہے
منزل کی سمت چلتے زمانہ گزر گیا
دیکھا پلٹ کے جب تو جہاں تھے وہیں رہے
ہر لحظہ مٹتے جاتے ہیں رنگیں نقوشِ دہر
دنیا ہماری آنکھ میں کیوں کر حسیں رہے
ہر آرزوۓ دل سے تقاضا ہے روز و شب
جاۓ نکل یہ دل سے مِرے پھر کہیں رہے
اللہ رے، انقلابِ زمانہ کہ اے نظرؔ
کافر یہ کہہ رہا ہے، مسلماں نہیں رہے

نظر لکھنوی​
(محمد عبدالحمید صدیقی)

No comments:

Post a Comment