Tuesday, 10 January 2017

وزیر خانم سنا یہی ہے اس من موہنی صورت

وزیر خانم

(۱)

سنا یہی ہے
اس من موہنی صورت
اور ملکوتی حسن کے چرچے
سارے بازاروں سے درباروں تک
پھیلے ہوئے تھے
ان کجراری آنکھوں
ریشمی گالوں میں
کچھ ایسی کشش تھی
جس کی رَو میں
ایک جہان کھِنچا آتا تھا

( ۲ )

یوسف سادہ کار کے صحن میں
اگنے والے
اس خوش قامت برگ نے جانے
کتنے آنگن مہکائے تھے
کتنے تپتے دلوں پہ اپنی چھاؤں اتاری
کیسی کیسی بادِ سموم کے وار سہے تھے
قسمت نے اس ہرے بھرے
خوش قامت برگ کو
کس کس مٹی میں پہنچایا
کیسی کیسی خاک میں اس کی جڑیں اتاریں
پھر بھی اس گل پوش نے ہر جا
اپنی ہی مہکاروں کی سوغاتیں بانٹیں
اپنی ہی خوشبو پھیلائی
لیکن وقت اور موسم نے
کچھ اپنے فیصلے کر رکھے تھے
جن کی بنا پر رفتہ رفتہ
محرومی اور دکھ کی دیمک
اس گلبرگ کی جڑوں میں
ڈیرے ڈال چکی تھی
آخر، اک دن
وہ خوش قامت
اپنے ٹھنڈے سائے سے محروم
فقط اک داغِ تمنا لیے ہوئے
گمنام زمیں کا رزق ہوا

حسن عباس رضا 

No comments:

Post a Comment