ساون کی گھٹا اور وہ جمنا کا کنارا
وہ منظر دلچسپ و ہ رنگین نظارا
جامن کے درختوں سے جو کچھ آگے بڑھا میں
آئی نظر آتی ہوئی ایک شوخ دلآرا
اللہ رے اٹھلائی ہوئی چال کی شوخی
قشقے پہ وہ چاندی کا چمکتا ہوا جھومر
جس طرح سے انگارے پہ ٹھہرا ہوا پارا
لہریں جو قریب آئین تو دامن کو سنبھالا
ایک ہاتھ میں نقشین تھی گاگر کو اتارا
پہلے تو ہر اک شئے کو بڑے غور سے دیکھا
پھر جھک کے بڑے ناز سے ہاتھوں کو نکھارا
پیروں کے تلوں کو کبھی بچھوؤں کو گھمایا
گاگر کو اجالا کبھی بالوں کو سنوارا
پانی سے ڈھلکتی ہوئی گاگر کو اٹھایا
لیتے ہوئے معصوم اداؤوں کا سہارا
آتا مجھے دیکھا تو وہ جھجکی کبھی چھپکی
شاید میرا آنا ہوا نہ ہوا اس کو گوارا
دیکھا نہ گیا حسن کی مجبوری کا عالم
میں اس سے یہ کہتا ہوا بستی کو سدھارا
او بت کدۂ ہند کے بے ترشے ہوئے بت
بخشم بہ نگاہے تو سمرقند و بخارا
ماہر القادری
No comments:
Post a Comment