کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے
ان کا راستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئے
کانٹوں کے دکھ سہنے میں تسکین بھی تھی آرام بھی تھا
ہنسنے والے بھولے بھالے پھول چمن کے مار گئے
ایک لگن کی بات ہے جیون ایک لگن ہی جیون ہے
آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
یہ برکھا برساۓ دن تو بِن پریتم بے کار گئے
جب بھی لوٹے پیاسے لوٹے پھول نہ پا کر گلشن میں
بھنورے امرت رس کی دھن میں پل پل سو سو بار گئے
ہم سے پوچھو ساحل والو! کیا بیتی دکھیاروں پر
کھیون ہارے بیچ بھنور میں چھوڑ کے جب اس پار گئے
حبیب جالب
No comments:
Post a Comment