عشرتی کے نام
عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
کھا کے لندن کی ہوا، عہدِ وفا بھول گئے
پہنچے ہوٹل میں تو پھر عید کی پروا نہ رہی
کیک کو چکھ کے سویّوں کا مزا بھول گئے
بھولے ماں باپ کو اغیار کے چرچوں میں وہاں
موم کی پتلیوں پر ایسی طبیعت پگھلی
چمنِ ہند کی پریوں کی ادا بھول گئے
کیسے کیسے دل نازک کو دُکھایا تم نے
خبرِ فیصلۂ روز جزا بھول گئے
بخل ہے اہلِ وطن سے جو وفا میں تم کو
کیا بزرگوں کی وہ سب جو دوعطا بھول گئے
نقل مغرب کی ترنگ آئی تمہارے دل میں
اور یہ نکتہ کہ مِری اصل ہے کیا بھول گئے
کیا تعجب ہے جو لڑکوں نے بھُلایا گھر کو
جب کہ بوڑھے روشِ دینِ خدا بھول گئے
اکبر الہ آبادی
واہ بچپن کی یاد آئی اس نظم سے
ReplyDelete