Monday, 16 January 2017

دل میں آؤ عجیب گھر ہے یہ

دل میں آؤ عجیب گھر ہے یہ
عمرِ رفتہ کی رہگزر ہے یہ
سنگِ منزل سے کیوں نہ سر پھوڑیں
حاصلِ زحمتِ سفر ہے یہ
رنجِ غربت کے ناز اٹھاتا ہوں
میں ہوں اب اور دردِ سر ہے یہ
ابھی رستوں کی دھوپ چھاؤں نہ دیکھ
ہم سفر دور کا سفر ہے یہ
دن نکلنے میں کوئی دیر نہیں
ہم نہ سو جائیں اب تو ڈر ہے یہ
کچھ نئے لوگ آنے والے ہیں
گرم اب شہر میں خبر ہے یہ
اب کوئی کام بھی کریں ناصرؔ
رونا دھونا تو عمر بھر ہے یہ

ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment