Tuesday, 10 January 2017

فراق میں جو پڑھوں وہ ہے اک عذاب کتاب

فراق میں جو پڑھوں وہ ہے اک عذاب کتاب
دکھائی دیتا ہے چہرہ وہی کتاب کتاب
رفاقتوں کے زمانے میں کون لکھتا ہے
بچھڑ کے تجھ سے لکھی میں نے لاجواب کتاب
ملے کتاب میں خط ایک ہم جماعت کے
میں شرمسار ہوا، اور آب آب کتاب
وہ دن کی دھوپ میں بالکل پڑھی نہیں جاتی
جو مجھ کو روز پڑھاتا ہے ماہتاب کتاب
تُو وعدے کرتا جا اور میں یقین کرتا جاؤں
کبھی ملیں گے تو ہو جائے گا حساب کتاب
شجاعؔ بس یہی آثار ہیں قیامت کے
جمالیات پہ لکھنے لگے قصاب کتاب

شجاع خاور

No comments:

Post a Comment