فراق میں جو پڑھوں وہ ہے اک عذاب کتاب
دکھائی دیتا ہے چہرہ وہی کتاب کتاب
رفاقتوں کے زمانے میں کون لکھتا ہے
بچھڑ کے تجھ سے لکھی میں نے لاجواب کتاب
ملے کتاب میں خط ایک ہم جماعت کے
وہ دن کی دھوپ میں بالکل پڑھی نہیں جاتی
جو مجھ کو روز پڑھاتا ہے ماہتاب کتاب
تُو وعدے کرتا جا اور میں یقین کرتا جاؤں
کبھی ملیں گے تو ہو جائے گا حساب کتاب
شجاعؔ بس یہی آثار ہیں قیامت کے
جمالیات پہ لکھنے لگے قصاب کتاب
شجاع خاور
No comments:
Post a Comment