Friday, 6 January 2017

مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھا

مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھا
دیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھا
دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کی رونق بن گیا
کل یہی چہرہ تھا جو ہر آئینے پر بار تھا
اپنے قسمت میں لکھی تھی دھوپ کی ناراضگی
سایۂ دیوار تھا، لیکن پسِ دیوار تھا
سب کے دکھ سکھ اسکے چہرے پہ لکھے پاۓ گئے
آدمی کیا تھا، ہمارے شہر کا اخبار تھا
اب محلے بھر کے دروازوں پہ دستک ہے نصیب
اک زمانہ تھا کہ جب میں بھی بہت خوددار تھا
کاغذوں کی سب سیاہی بارشوں میں دھل گئی
ہم نے جو سوچا تیرے بارے میں سب بیکار تھا
اپنے ہی پھیلاؤ کے نشے میں کھویا تھا درخت
اور ہر معصوم ٹہنی پر پھلوں کا بار تھا

راحت اندوری

No comments:

Post a Comment