مسجدوں کے صحن تک جانا بہت دشوار تھا
دیر سے نکلا تو میرے راستے میں دار تھا
دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کی رونق بن گیا
کل یہی چہرہ تھا جو ہر آئینے پر بار تھا
اپنے قسمت میں لکھی تھی دھوپ کی ناراضگی
سب کے دکھ سکھ اسکے چہرے پہ لکھے پاۓ گئے
آدمی کیا تھا، ہمارے شہر کا اخبار تھا
اب محلے بھر کے دروازوں پہ دستک ہے نصیب
اک زمانہ تھا کہ جب میں بھی بہت خوددار تھا
کاغذوں کی سب سیاہی بارشوں میں دھل گئی
ہم نے جو سوچا تیرے بارے میں سب بیکار تھا
اپنے ہی پھیلاؤ کے نشے میں کھویا تھا درخت
اور ہر معصوم ٹہنی پر پھلوں کا بار تھا
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment