Sunday, 1 January 2017

گھر سے جنگل کی طرف جب تیرا دیوانہ چلا

گھر سے جنگل کی طرف جب تیرا دیوانہ چلا
ساتھ میں روتا ہوا ہر اپنا بے گانہ چلا
پاؤں کے چھالوں سے کانٹوں کی بجھائی میں نے پیاس
آج جنگل میں بھی ساقی! دورِ پیمانہ چلا
پی رہے ہیں سب نگاہوں سے محبت کی شراب
جو تِری محفل میں آیا، بھر کے پیمانہ چلا
حشرؔ! یہ کالی گھٹائیں، اور توبہ کا خیال
تم یہیں بیٹھے رہو، میں سوئے مے خانہ چلا

آغا حشر کاشمیری

No comments:

Post a Comment