رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی
کھلے ہوۓ صحرا کے ہاتھ پہ نیلم سی
لمبی رات گزر جائے تعبیروں میں
اس کا پیکر ایک کہانی مبہم سی
اپنی جگہ ساحل سا ٹھہرا غم تیرا
اپنی لگاوٹ کو وہ چھپانا جانتا ہے
آگ اتنی ہے اور ٹھنڈک ہے شبنم سی
میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا جانا
ساری کیفیت ہے گزرتے موسم سی
شاید اب بھی کوئی شرر باقی ہو زیبؔ
دل کی راکھ سے آنچ آتی ہے کم کم سی
زیب غوری
No comments:
Post a Comment