Saturday, 7 January 2017

رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی

رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی
کھلے ہوۓ صحرا کے ہاتھ پہ نیلم سی
لمبی رات گزر جائے تعبیروں میں
اس کا پیکر ایک کہانی مبہم سی
اپنی جگہ ساحل سا ٹھہرا غم تیرا
دل کے دریا میں اک ہلچل پیہم سی
اپنی لگاوٹ کو وہ چھپانا جانتا ہے
آگ اتنی ہے اور ٹھنڈک ہے شبنم سی
میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا جانا
ساری کیفیت ہے گزرتے موسم سی
شاید اب بھی کوئی شرر باقی ہو زیبؔ
دل کی راکھ سے آنچ آتی ہے کم کم سی

زیب غوری

No comments:

Post a Comment