Sunday, 1 January 2017

وارفتگیِ شوق فسوں کار نہ ہو جائے

وارفتگئ شوق فسوں کار نہ ہو جائے
جلوؤں کو سنبھلنا کہیں دشوار نہ ہو جائے
رہبر جو ہمیں ٹھوکریں کھانے نہیں دیتا 
ڈرتا ہے کہیں راستہ ہموار نہ ہو جائے
مۓ خانہ بھی اک کارگہِ شیشہ گری ہے 
پیمانہ کہیں ٹوٹ کے تلوار نہ ہو جائے
شبنم کو نکالو نہ طرب زارِ چمن سے 
کلیوں کا چٹکنا کہیں دشوار نہ ہو جائے
اوسان نا کھو دے کہیں وحشت تِرے آگے
دیوانہ تجھے دیکھ کے ہُشیارنہ ہو جائے
قابلؔ کے شب و روز بدلنے نہیں پاتے 
بد نام تِری شوخئ رفتار نہ ہو جائے

قابل اجمیری

No comments:

Post a Comment