Saturday, 7 January 2017

دکھ نہ ہوں تو زندگی میں نور آئے کس طرح

دکھ نہ ہوں تو زندگی میں نور آئے کس طرح
شام سے پہلے ستارہ جگمگائے کس طرح
سر پہ تم جلتا ہوا سورج ذرا آنے تو دو
دیکھنا پیروں تلے آتے ہیں سائے کس طرح
صحنِ گل سہما ہوا ہے، گولیوں کی گونج سے
شاخ پر بیٹھا پرندہ چہچہائے کس طرح
ایک سے سب کے رویے، ایک سی سب صورتیں
کوئی پہچانے بھلا اپنے پرائے کس طرح
تم کہ کشتِ گل میں بھی رہتے ہو اکتائے ہوئے
ہم سے پوچھو ہم نے ویرانے بسائے کس طرح
ہم نے پلکوں سے تمہاری راہ کے کانٹے چنے
جانتے ہو، ہم تمہیں منزل پہ لائے کس طرح
چل رہے ہو اجنبی راہوں پہ آنکھیں موند کر
اب تمہیں کوئی بھٹکنے سے بچائے کس طرح

مشتاق عاجز

No comments:

Post a Comment