Thursday, 5 January 2017

ہری ٹہنیوں کے نگر پر گئے

ہری ٹہنیوں کے نگر پر گئے
ہوا کے پرندے شجر پر گئے
اک آسیبِ زر ان مکانوں میں ہے
مکیں اس جگہ کے سفر پر گئے
بہت دھند ہے اور وہ نقشِ قدم
خدا جانے کس رہگزر پر گئے
کہ جیسے ابھی تھا یہاں پر کوئی
گماں کیسے خوابِ سحر پر گئے
کئی رنگ پیدا ہوئے برق سے
کئی عکس دیوار و در پر گئے
وہی حسنِ دیوانہ گر ہر طرف
سبھی رخ اسی کے اثر پر گئے
منؔیر آج اتنی اداسی ہے کیوں
یہ کیا سائے سے بحر و بر پر گئے

منیر نیازی

No comments:

Post a Comment