Saturday, 7 January 2017

گلی گلی ہے اندھیرا تو میرے ساتھ چلو

گلی گلی ہے اندھیرا تو میرے ساتھ چلو
تمہیں خیال ہے میرا تو ساتھ چلو
میں جا رہا ہوں اجالوں کی جستجو کیلئے
ستا رہا ہو اندھیرا تو میرے ساتھ چلو
جنوں کے دشت میں اک چھاؤنی بسا لیں گے
نہیں ہے کوئی بسیرا تو میرے ساتھ چلو
میں راہزن ہوں مگر آشنائے منزلِ دل
جو راہبر ہے لٹیرا تو میرے ساتھ چلو
قدم قدم پہ جلاتا چلوں گا دل کے چراغ
جو راستہ ہے اندھیرا تو میرے ساتھ چلو
اگر چمن سے زیادہ پسند ہے تم کو
غریب دشت کا ڈیرا تو میرے ساتھ چلو
شمیؔم ظلمتِ دوراں سے جنگ ہے درپیش
جو چاہتا ہو سویرا تو میرے ساتھ چلو

شمیم کرہانی

No comments:

Post a Comment