Thursday, 5 January 2017

پہلے فسانہ کیا تھا ترا اب فسانہ کیا

پہلے فسانہ کیا تھا تِرا اب فسانہ کیا
تجھ پر کوئی یقین کرے گا زمانہ کیا
ہم ایک دوسرے سے بندھے تو نہیں ہوئے
جانے کا کوئی ڈھونڈ رہے ہو بہانہ کیا
رہتا ہے میرے سامنے ہر پل تِرا خیال
تیرا کسی سے ذکر کروں غائبانہ کیا
تیرے تو ہاتھ کانپ رہے ہیں مثالِ برگ
تجھ سے ہمارے دل پہ لگے گا نشانہ کیا
شب کا قیام کیا ہے، کرو عمر بھر قیام
یہ سوچ لو کہ ہم کو کہے گا زمانہ کیا
ہونٹوں پہ تِرے وردِ خدا اس قدر ہے کیوں
ایسا گناہ تُو نے کِیا کافرانہ کیا
کچھ کام کر لیا ہے تو سر کو اٹھا کے چل
اتنا بھی اب مزاج بھلا عاجزانہ کیا
یہ وار تُو نے دل پہ کِیا، قاتلانہ کیا
تجھ کو خبر ہے تجھ کو کہے گا زمانہ کیا
اتنے بڑے قدم جو اٹھاتا ہے تُو عدؔیم
ایسے میں تیرے ساتھ چلے گا زمانہ کیا

عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment