اپنے ہی درد کے ماتھے پہ سجایا جاؤں
خون مزدور ہوں بے وجہ بہایا جاؤں
مجھ کو جلنے دے سرِ طاقِ شبِ ہجر کہ میں
تیرے دامن کی ہوا سے نہ بجھایا جاؤں
آرزو مجھ سے الجھتی ہے زلیخا کی طرح
اپنے افکار کو پستی سے بچانے کے لیے
آسمانوں کی بلندی سے گرایا جاؤں
یاد آؤں گا تجھے ذہن کی ہر منزل پر
حرفِ سادہ تو نہیں ہوں کہ بھلایا جاؤں
عمر بھر ذہن میں چمکا نہ کوئی فکر کا چاند
چاندنی اب تِرے شعلوں میں جلایا جاؤں
میرے محسؔن مِرے افکار کی تخصیص نہ کر
عکسِ آئینہ ہوں ہر دل پہ گرایا جاؤں
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment