Sunday, 8 January 2017

اپنے ہی درد کے ماتھے پہ سجایا جاؤں

اپنے ہی درد کے ماتھے پہ سجایا جاؤں
خون مزدور ہوں بے وجہ بہایا جاؤں
مجھ کو جلنے دے سرِ طاقِ شبِ ہجر کہ میں
تیرے دامن کی ہوا سے نہ بجھایا جاؤں
آرزو مجھ سے الجھتی ہے زلیخا کی طرح
میں بھی یوسف ہوں تو بازار میں لایا جاؤں
اپنے افکار کو پستی سے بچانے کے لیے
آسمانوں کی بلندی سے گرایا جاؤں
یاد آؤں گا تجھے ذہن کی ہر منزل پر
حرفِ سادہ تو نہیں ہوں کہ بھلایا جاؤں
عمر بھر ذہن میں چمکا نہ کوئی فکر کا چاند
چاندنی اب تِرے شعلوں میں جلایا جاؤں
میرے محسؔن مِرے افکار کی تخصیص نہ کر
عکسِ آئینہ ہوں ہر دل پہ گرایا جاؤں

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment