پیڑ کے کٹنے سے آنگن تو کشادہ ہو گیا
دکھ پرندوں کا مگر حد سے زیادہ ہو گیا
کھِچ گئی دیوار گھر میں آدھا آدھا ہو گیا
درمیاں جیسے ہمالہ ایستادہ ہو گیا
اے ٹپکتی چھت میں تجھ پر اور مٹی ڈالتا
اس برس عریانیت پر احتجاج ایسے ہوا
ہر شجر آندھی کے آگے بے لبادہ ہو گیا
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment