Friday, 6 January 2017

سرخ لمحوں کی کسک لے کے تجھے دیکھوں گا

سرخ لمحوں کی کسک لے کے تجھے دیکھوں گا
عصر موجود! شفق لے کے تجھے دیکھوں گا
میں ہی گلیوں سے اٹھاؤں گا لہو کا سبزہ
میں ہی زخموں سے نمک لے کے تجھے دیکھوں گا
میں ہی سن سکتا ہوں یہ گونج، یہ چیخوں کی گونج
میں ہی نغموں کی کھنک لے کے تجھے دیکھوں گا
میں ہی لاؤں گا ہتھیلی پہ دِیا، دل میں دعا
میں ہی آنکھوں میں جھمک لے کے تجھے دیکھوں گا
میں ہی آواز لگاؤں گا تو سب جاگیں گے
میں ہی لہجے میں دھمک لے کے تجھے دیکھوں گا

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment