Tuesday, 10 January 2017

محبت ایک آوارہ تمنا ہے

محبت

محبت ایک آوارہ تمنا ہے
جو روحوں میں بھٹکتی ہے
قدیم اور اصل
موت اور زندگی سے ماورأ
اور اس میں پنہاں بھی
نہ جانے کتنے جنموں سے
کسی دل کی بیابانی میں افتادہ
کبھی اشکوں میں ڈھلتی شام کی لو میں تھرکتی ہے
کسی انجام سے پہلے اجڑ کر
اک نیا آغاز بنتی ہے
زوال اور رفعتوں کی داستانیں
اور تغیر کی فراوانی
فقط اک صورت آلام
ہر لمحہ بدلتی ہے
کوئی عالم ہو
ہر ”شے“ اور ”لا شے“ میں
کہیں افسردگی اور سوگواری سی مچلتی ہے
محبت ساتھ چلتی ہے

عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment