Saturday, 25 July 2020

آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نے

اندوہِ وفا

آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نے
جس سے اس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھی
آج وہ نکہتِ آسودہ لٹا دی ہم نے
عقل جس قصر میں انصاف کیا کرتی ہے
آج اس قصر کی زنجیر ہلا دی ہم نے

آگ کاغذ کے چمکتے ہوئے سینے پہ بڑھی
خواب کی لہر میں بہتے ہوئے آئے ساحل
مسکراتے ہوئے ہونٹوں کا سلگتا ہوا کرب
گنگناتے ہوئے عارِض کا دمکتا ہوا تِل
جگمگاتے ہوئے آویزوں کی مبہم فریاد
سرسراتے ہوئے لمحوں کے دھڑکتے ہوئے دل
ایک دن روح کا ہر تار صدا دیتا تھا
کاش ہم بِک کے بھی اس جنسِ گراں کو پا لیں
قرضِ جاں دے کے متاعِ گزراں کو پا لیں
خود بھی کھو جائیں پر اس رمزِ نہاں کو پا لیں
اور اب یاد کے اس آخری پیکر کا طلسم
قصۂ رفتہ بنا، خواب کی باتوں سے ہوا
اس کا پیار، اس کا بدن، اس کا مہکتا ہوا روپ
آگ کی نذر ہوا اور انہی ہاتوں سے ہوا

مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment