Friday, 24 July 2020

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے
کہ ہونے میں زیاں رکھا ہوا ہے
زمیں کے جسم پر قبریں نہیں ہیں
"خیالِ" رفتگاں "رکھا" ہوا ہے
سرِ مژگاں مِرے آنسو نہیں ہیں
سلوکِ "دوستاں" رکھا ہوا ہے
یہاں جو اک چراغِ زندگی تھا
نہ جانے اب کہاں رکھا ہوا ہے
یہ دنیا اک طلسمِ آب و گِل ہے
یہاں سب رائیگاں رکھا ہوا ہے

کاشف حسین غائر

No comments:

Post a Comment