ندی کنارے جو نغمہ سرا ملنگ ہوئے
حباب موج میں آ آ کے جلترنگ ہوئے
ارم کے پھول، ازل کا نکھار، طور کی لو
سخی چناب کی وادی میں آ کے جھنگ ہوئے
کبھی جو ساز کو چھیڑا بہار مستوں نے
عطا کیا تِرے ماتھے نے جن کو عید کا چاند
نثار ان پہ ستاروں کے راگ رنگ ہوئے
شبِ حیات میں انساں کے "ولولے" افضل
ابھر کے تارے بنے کہکشاں کے سنگ ہوئے
شیر افضل جعفری
No comments:
Post a Comment