اسیرِ "ہجر" کی "آب و ہوا" بدلنے کو
کبھی خوشی بھی ملے ذائقہ بدلنے کو
میں تیرے شہر سی نکلی تو مڑ نہیں دیکھا
ہزاروں "لوگ" ملے "بارہا" بدلنے کو
میں جس کے نقش ِ قدم چومنے کو نکلی تھی
ہزار" زخم "سہے" اور پھر یہی سوچا"
چلو "اک" اور "سہی" تجربہ بدلنے کو
گر اس کاساتھ ملے تو ستارے مل جائیں
وہ "ناگزیر "ہوا" زائچہ "بدلنے" کو"
ملے ہیں ہم کبھی پھر سے جدا نہ ہونے کو
چلو یہ "فرض" کریں "مسئلہ" بدلنے کو
یہاں پہ خود کو "بدلنا" ہے، گر بدلنا ہے
سو تم سے کس نے کہا ہے خدا بدلنے کو
وہ خود تو کھو چکا دنیا کی بھیڑ میں ایماں
مجھے بھی "کہہ" گیا اپنا "پتہ" بدلنے کو
ایمان قیصرانی
No comments:
Post a Comment