جیسے کسی کو خواب میں میں ڈھونڈتا رہا
دلدل میں دھنس گیا تھا، مگر بھاگتا رہا
بے چین رات کروٹیں لیتی تھیں بار بار
لگتا ہے میرے 'ساتھ' خدا جاگتا رہا
اپنی اذاں تو کوئی مؤذن نہ سن سکا
ساعت دعا کی آئی تو حسبِ نصیب میں
خالی ہتھیلیوں کو 'عبث' گھورتا رہا
اس کی نظر کے سنگ سے میں آئینہ مثال
ٹوٹا تو ٹوٹ کر بھی اسے دیکھتا رہا
انساں کسی بھی دور میں مشرک نہ تھا کبھی
پتھر کے 'نام' پر بھی تجھے 'پوجتا' رہا
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment