Saturday, 25 July 2020

چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دل گیر کے ساتھ

چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھ
خط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھ
گو کہ اقرار غلط تھا مگر اک تھی تسکین
اب تو انکار ہے کچھ اور ہی تقریر کے ساتھ
دور ایسے نہ کھیچو پاس بھی آؤ گے کبھی
وہ گئے دن جو یہ نالے نہ تھے تاثیر کے ساتھ
پیچ قسمت کا ہو تو کیا کرے اس میں کوئی
دل کو وابستگی ہے زلف گرہ گیر کے ساتھ
وہ بھی کہتے ہوئے کچھ دور تک آئے پیچھے
ہم جو اس بزم سے نکلے بھی تو توقیر کے ساتھ
یہ بھی اک وصل کی صورت تھی مگر رشک نصیب
اس کی تصویر کبھی غیر کی تصویر کے ساتھ
وعدۂ صبح پہ اب کس کو یقیں ہو قاصد
آج تو جان گئی نالۂ شب گیر کے ساتھ
کہو رنجش کا سبب کچھ نہیں میری ہی سنو
عذر تو چاہیئے کرنا مجھے تقصیر کے ساتھ
آپ دیتے ہیں اذیت ہی شکایت کی عوض
کچھ زباں سے بھی تو فرمائیے تعزیر کے ساتھ
دیکھیے مل ہی گیا آپ سے وہ شوخ نظامؔ
کام جو کچھ کرے انسان سو تدبیر کے ساتھ

نظام رامپوری

No comments:

Post a Comment