Saturday, 25 July 2020

وہ میری جاں کے صدف میں گہر سا رہتا ہے

وہ میری جاں کے صدف میں گہر سا رہتا ہے
میں اس کو توڑ نہ ڈالوں، یہ ڈر سا رہتا ہے
وہ چہرہ ایک "شفا خانہ" ہے مِری خاطر
وہ ہو تو جیسے کوئی "چارہ گر" سا رہتا ہے
میں اس نگاہ کے ہمراہ جب سے آیا ہوں
مجھے نہ جانے کہاں کا سفر سا رہتا ہے
بڑا وسیع ہے اس کے "جمال" کا منظر
وہ آئینے میں تو بس "مختصر" سا رہتا ہے
مِری زمیں کو میسر ہے "آسماں" اس کا
کہیں بھی جاؤں مِرے ساتھ گھر سا رہتا ہے

فرحت احساس

No comments:

Post a Comment