Tuesday, 21 July 2020

بس اک نگاہ مسلسل کا اہتمام کیا

بس اک نگاہِ مسلسل کا "اہتمام" کیا 
کل اک چراغ نے مجھ سے عجب کلام کیا
میں اپنی آخری شمعیں بجھانے والی تھی
کہ ایک دشمنِ جاں مجھ طرف خرام کیا
وہ جس کے پاس مجھے چھوڑ کر گئے تھے تم
تمہارے بعد نہ اس نے بھی پھر قیام کیا
مجھے کچھ اپنے مِرے دوست ڈسنے والے تھے
تو ایک سانپ نے بڑھ کر مجھے سلام کیا
درِ قفس تو "کھلا" تھا، مگر "اسیروں" نے
اسیر" رہ کے "اسیری" کا "احترام" کبا"
خوشی سے خود بھی جیو اوروں کو بھی جینے دو
اسی نظریۂ "مثبت" کو ہم نے "عام" کیا
بجز اک عشق کوئی کام ہم نہ کر پائے
خدا کا شکر کہ ہم نے کوئی تو کام کیا

ریحانہ روحی

No comments:

Post a Comment