Tuesday, 25 August 2020

یہ کس سے کہیے کہ خوابوں کے ساتھ گزری ہے

یہ کس سے کہئے کہ خوابوں کے ساتھ گزری ہے
یہ زندگی جو کتابوں کے ساتھ گزری ہے
نظر نے اس کو چھوا بھی تو فاصلے رکھ کر
وہ موجِ گل جو حبابوں کے ساتھ گزری ہے
یہ حوصلہ بھی کہاں، آئینہ وہ دیکھ سکیں
وہ جن کی عمر نقابوں کے ساتھ گزری ہے
یہاں تو دار و رسن ساتھ تھے چراغوں کے
یہ راہ کتنے عذابوں کے ساتھ گزری ہے
کبھی نہ ٹوٹ سکا، دل کے آبلوں کا طلسم
حیات یوں تو خرابوں کے ساتھ گزری ہے
لہو کے پھول تو صحرا میں کھل گئے تنویر
یہی تو ہے کہ سرابوں کے ساتھ گزری ہے

تنویر احمد علوی

No comments:

Post a Comment