Thursday, 27 August 2020

مقدر ڈوبنا ٹھہرا تو پھر ایسا کیا جائے

 مقدر ڈُوبنا ٹھہرا تو پھر ایسا کِیا جائے

کہ اپنے آپ کو غرقِ مے و مِینا کیا جائے

کسی کی سُرخیٔ رُخسار کی خاطر ضروری ہے

کوئی خُونِ تمنا پھر لبِ دریا کیا جائے

کِدھر دیکھیں کہ کل عالم بنا ہے آئینہ خانہ

ہر اک ذرہ میں کیا اپنا ہی نظارا کیا جائے

وگرنہ کس نظر سے جرأت دیدار ممکن ہے

تماشہ اپنا ہے منظور تو پردا کیا جائے

نصیر انسانِ کامل ہے صفاتِ ذات کا حامل

جنابِ شیخ فتویٰ دیں تو پھر سجدا کیا جائے


نصیر نیازی

No comments:

Post a Comment