Monday, 24 August 2020

گھر کو گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے

گھر کو گھر بنانے میں عمر بیت جاتی ہے
پھر مکان گرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
انگلیوں کی پوروں میں کرچیاں اترتی ہیں
کانچ کے بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
عمر کیسے ڈھلتی ہے موت کیسے پلتی ہے
چار دن گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
شاخ کی ہتھیلی پر پھول مسکراتا ہے
پھول کے بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
عمر بھر کے ساتھی جب راستے بدلتے ہیں
عمر کو گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
مصلحت کے پردے کی عمر کتنی ہوتی ہے
یہ نقاب اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ایک سر کی چادر ہو، اور پاؤں میں چپل
اپنے سج سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے

شہناز پروین سحر

No comments:

Post a Comment