Thursday, 17 September 2020

وعدۂ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

 وعدۂ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

خاک بولیں گے کہ دفنائے ہوئے لوگ ہیں ہم

یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے کھڑے ہیں

جیسے دیوار میں چنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

اس کی ہر بات پہ لبیک بھلا کیوں نہ کہیں

زر کی جھنکار پہ بلوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

جس کا جی چاہے وہ انگلی پہ نچا لیتا ہے

جیسے بازار سے منگوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

ہنسی آئے بھی تو ہنستے ہوئے ڈر لگتا ہے

زندگی یوں تیرے زخمائے ہوئے لوگ ہیں ہم

آسمان اپنا، زمیں اپنی، نہ سانس اپنی تو پھر

جانے کس بات پہ اِترائے ہوئے لوگ ہیں ہم

جس طرح چاہے بنا لے ہمیں وقت قتیل

درد کی آنچ پہ پگھلائے ہوئے لوگ ہیں ہم


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment