Thursday, 17 September 2020

جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں

ایسا تو کائنات میں پھول کہیں کھلا نہیں

کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا کا نام لے

ان کی گلی کا راستہ کعبہ سے تو جدا نہیں

دامن ہی جس کا تنگ ہو اس کا گلہ فضول ہے

ورنہ درِ رسولؐ سے کس کو سوا ملا نہیں

سینے میں ان کی یاد ہو آنکھوں میں ان کی روشنی

اِس آرزو کے بعد تو کوئی بھی التجا نہیں

بھیجے خدا نے ان گنت بزم جہاں میں انبیاء

لیکن مِرے حضورؐ سا کوئی بھی دوسرا نہیں

اپنے کرم کی بھیک سے مجھ کو بھی سرفراز کر

تیرے سوا کوئی میرا دکھ درد آشنا نہیں

یوں تو کھلے تھے آس کے سینے میں پھول سینکڑوں

آنکھوں میں آپ کے سوا کوئی مگر جچا نہیں


سعادت حسن آس

No comments:

Post a Comment