Saturday, 19 September 2020

اے سجن وقت جاں گدازی ہے

 اے سجن وقت جاں گدازی ہے

موسم‌ عیش و فصل بازی ہے

ان چکوروں سے دور رہ اے چاند 

قول عشاق کا نمازی ہے

اس قلندر کی بات سہل نہ بوجھ 

عشق کے فن میں فخر رازی ہے

ہم قریں مجھ کو نہ کر رقیباں سوں

طور یاروں کی پاک بازی ہے

عاشقاں جان و دل گنواتے ہیں

عاشقاں جان و دل گنواتے ہیں 

یہ نہ طور زمانہ سازی ہے

فائز اس خوش ادا سریجن پاس

بے گناہاں کا قتل بازی ہے


فائز دہلوی

No comments:

Post a Comment