Monday, 21 September 2020

رات میں نے سوچا تھا آج خود کشی کر لوں

 خود کشی


غم کی تیز لہریں جب دل کو چوٹ دیتی تھیں 

ہاتھ کی لکیروں پر جب نظر کبھی پڑتی 

پھوٹ پھوٹ روتا تھا اپنے میں مقدر پر 

پھر خیال آیا کہ لاؤ خود کشی کر لیں

جیسے میں نے رسی کو ڈالا اپنی گردن میں 

موت کو گلے سے میں جب لگانے والا تھا 

پھر خیال یہ آیا سارا غم ہے دنیا میں 

بعد میرے مرنے کے یہ تو کم نہیں ہو گا 

آج میرے مرنے سے کس کو چین آئے گا 

مسکراتے بچوں کو کون گود میں لے گا 

در بدر کی کھائیں گے ٹھوکریں میرے بچے

روح ایسے منظر کو جب کبھی بھی دیکھے گی 

بعد مر کے بھی شاید روح یوں ہی تڑپے گی 

باپ ماں بہن بیوی سب کو ہو گا اک صدمہ 

یہ بھی ہو کوئی میرے غم میں رو کے مر جائے 

ایک میرے مرنے سے ختم غم نہیں ہو گا 

خود کشی مصیبت کا حل کبھی نہیں ہوتا 

راستہ یہ جیون  کا غم سے ہو کے جاتا ہے 

میں ہی صرف دنیا میں تنگ حال تھوڑی ہوں 

لوگ سب بھٹکتے ہیں روزگار کی خاطر 

ہاں مگر کوئی مجھ سا اتنا گر نہیں سکتا 

اس طرح کی حرکت وہ سوچ بھی نہیں سکتا 

شرم آ رہی ہے اب اپنی سوچ پر مجھ  کو

رات میں نے سوچا تھا آج خود کشی کر لوں

رات میں نے سوچا تھا آج خود کشی کر لوں


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment