Wednesday, 14 October 2020

صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں

 لاعنوان


صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں

آج نظم نہیں لکھتے

ورنہ شام ہو جائے گی

اور کسی کو اپنا منتظر نہ پا کر

بوٹوں سمیت کرسی پر بیٹھ جائے گی


ان نامعلوم افراد کے انداز میں

جن میں شمار ہونے سے

سب کو خوف آتا ہے

آج خوفزدہ نہیں ہوتے

صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں

اور خواب ٹوٹنے کی آواز پر

نیند نہیں توڑتے

بیدار نہیں ہوتے

یہ اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کرتے

کہ دروازہ کس طرف ہے

بس مان لیتے ہیں

کہ دستک کی امید

کوے کی آواز سے باندھ کر

دروازے پر لٹکا دینا

اچھا شگون ہوتا ہے


عمار اقبال

No comments:

Post a Comment