لاعنوان
صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں
آج نظم نہیں لکھتے
ورنہ شام ہو جائے گی
اور کسی کو اپنا منتظر نہ پا کر
بوٹوں سمیت کرسی پر بیٹھ جائے گی
ان نامعلوم افراد کے انداز میں
جن میں شمار ہونے سے
سب کو خوف آتا ہے
آج خوفزدہ نہیں ہوتے
صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں
اور خواب ٹوٹنے کی آواز پر
نیند نہیں توڑتے
بیدار نہیں ہوتے
یہ اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کرتے
کہ دروازہ کس طرف ہے
بس مان لیتے ہیں
کہ دستک کی امید
کوے کی آواز سے باندھ کر
دروازے پر لٹکا دینا
اچھا شگون ہوتا ہے
عمار اقبال
No comments:
Post a Comment