Wednesday, 14 October 2020

مرے ڈھولے سچے سانول جی ترا من بھاوے انداز پیا

 مِرے ڈھولے سچے سانول جی، تِرا من بھاوے انداز پیا

تِری باتیں گڑ، گھی، شکر سی، تِری آنکھیں فتنہ ساز پیا

مِری ہستی، نام سنوار دیا، مجھے دکھ کے پار اتار دیا

مجھے تیری ذات سہارا ہے، مجھے تیری چاہ پہ ناز پیا

میں پیار کروں، کوئی نظم کہوں، کچھ لوگ برے ہیں جلتے ہیں

وہ من کی مستی کیا جانیں، مِرا بس اک تُو ہمراز پیا

اک ایسی نظم بھی کہنی ہے، انجام نہ جس کا ممکن ہو

ذرا میرے دھیان میں آ جاؤ، مجھے کرنا ہے آغاز پیا

تِری آگے سائیاں مرضی ہے، مِری بس اتنی سی عرضی ہے

بھلے جگ کی ہر شے بھول چکوں، رہے قائم عشق نماز پیا


زین شکیل

No comments:

Post a Comment