میں تمہیں پھر ملوں گی
کہاں، کس طرح، پتہ نہیں
شاید تمہارے خیالوں کی چنگاری بن کر
تمہارے کینوس پر اتروں گی
یا ایک پراسرار لکیر بن کر
خاموش بیٹھی تمہیں دیکھتی رہوں گی
یا شاید سورج کی لو بن کر
تمہارے رنگوں میں گھلوں گی
یا تمہارے رنگوں کی بانہوں میں بیٹھ کر
کینوس پر پھیل کاؤں گی
پتہ نہیں کس طرح، کہاں
لیکن تمہیں ضرور ملوں گی
یا شاید ایک چشمہ بنوں گی
اور جیسے چشمے کا پانی ابلتا ہے
میں پانی کے قطرے تمہارے بدن پر ملوں گی
اور ایک ٹھنڈک سی بن کر
تمہارے سینے سے لگوں گی
میں اور کچھ نہیں جانتی
لیکن یہ معلوم ہے
کہ وقت جدھر بھی کروٹ لے گا
یہ جنم میرے ساتھ چلے گا
یہ جسم خاک ہوتا ہے
تو سب کچھ ختم ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے
لیکن یادوں کے دھاگے
کائناتی ذروں سے بنے ہوتے ہیں
میں وہی ذرے چنوں گی
دھاگوں کو بٹوں گی
اور پھر تمہیں ملوں گی
امرتا پریتم
No comments:
Post a Comment