Friday, 20 November 2020

ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں

 ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں

گھر کیا تعمیر جس نے دیمکوں کے شہر میں

خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم

کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں

کس کو ہے مرنے کی فرصت سب یہاں مصروف ہیں

موت تو بے کار میں آئی ہے ایسے شہر میں

ٹوٹی کشتی کی طرح ہیں وقت کے ساحل پہ ہم

کیا زمانہ تھا بہا کرتے تھے اپنی لہر میں

ایک ویرانی سی انجم رہ گئی آنکھوں میں اب

خواب سارے بہہ گئے ہیں آنسوؤں کی نہر میں


انجم لدھیانوی

No comments:

Post a Comment