سکھائے اس کی زلفِ خم کا خم ہم کو
لبوں کا چھیڑنا چاہے مروڑا جائے ہم کو
ایک دو بات سے یا تیر و خنجر سے نہیں
کبھی آنکھوں تو کبھی زلف سے مارا ہم کو
خستگئ چشمِ پریشاں سے پھنسایا ہم کو
پھر اس پنجۂ مژگاں سے دبایا ہم کو
خط تو وہ بے رخی سے پھینک کر منہ پہ تھا گیا
دل کو جھگڑے سے بھی واپس نہ لوٹایا ہم کو
وہ ہمیں چھوڑ گیا یہ کہا جب آنکھوں سے
اشک بھی چھوڑ گیا کہ کون سینے سے لگائے ہم کو
گریۂ خوں بھی کر کہ دیکھ لیا کچھ نہ بنا
سوائے خود کہ کسی اور نے کب منایا ہم کو
آگے لگتی تھی تو خوں آیا کیا؟ ہوتا تھا سوال
اب لگی ہے تو اِک رومال بھی نہ آیا ہم کو
یوں تو بچگی میں لیلیٰ و مجنوں پڑھائی گئی
بس اِک ترکِ وفا نہ سکھایا ہم کو
اب ان گلیوں کو دیکھ کر وحشت کیوں نہ آئے
پھر کوئی کنکر بھی تو کھڑکی سے نہ مارا ہم کو
ایک ہی زخمِ زبان روز خوں ہو جاتا ہے
جانے کیوں نام تیرا یاد پھر آیا ہم کو
بو علی گیلانی
No comments:
Post a Comment