نذر یاران وطن
جسے تم یاد میں اپنی تڑپتا چھوڑ آئے ہو
تمہاری نذر اس بُھولے وطن کا نام لایا ہوں
جلی جاتی ہے اُجڑی کوکھ کے شعلوں میں جو ہر دم
اسی ارضِ دکن کا دوستوں پیغام لایا ہوں
قیامت تک نہ دُھل پائیں جن کے نقش
وہ حسن صبح لایا ہوں، وہ رنگیں شام لایا ہوں
میں دیکھوں گا کہ اب کِن کِن سے تم آنکھیں چراؤ گے
شبِ عثمان ساگر، صبحِ باغِ عام لایا ہوں
اُٹھاؤ اپنی نظریں، پی سکو تو ان کو پی جاؤ
بھری آنکھوں میں اُلفت کے چھلکتے جام لایا ہوں
دکن کی مے بھری بولی کے رنگا رنگ پیالوں میں
میں کالی داس کا رس، بادۂ شام لایا ہوں
کنول پرشاد کنول
No comments:
Post a Comment