Saturday, 19 December 2020

کر رہا تھا جو انتشار طویل

 کر رہا تھا جو انتشار طویل

چاہتا ہو گا اختیار طویل

کب یہ معلوم تھا کہ کتنا ہے

مغربی حرص کا حصار طویل

کوئی تاریک غار ہے دنیا

ہر قدم پر بلائیں، غار طویل

جنگ سے کر کے مجھ کو خوفزدہ

اس کو کرنا ہے اقتدار طویل

میں نے انصاف کی تمنا کی

ہو گیا میرا انتظار طویل

تم نہیں آئے اور اسی دن سے

ہو گئی شام بے قرار طویل

ایک تو درد سے بھری ہے اور

ہوتی جاتی ہے بار بار طویل


فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment