Sunday, 20 December 2020

جانے اس نے کیا دیکھا شہر کے منارے میں

 جانے اس نے کیا دیکھا شہر کے منارے میں

پھر سے ہو گیا شامل زندگی کے دھارے میں

اسم بھول بیٹھے ہم، جسم بھول بیٹھے ہم

وہ ہمیں ملی یارو! رات اک ستارے میں

اپنے اپنے گھر جا کر سکھ کی نیند سو جائیں

تُو نہیں خسارے میں، میں نہیں خسارے میں

میں نے دس برس پہلے جس کا نام رکھا تھا

کام کر رہی ہو گی جانے کس ادارے میں

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت

لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں


ثروت حسین

No comments:

Post a Comment